مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے سربراہ نے ملک کی تازہ ترین صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی دشمن امریکہ کی حمایت اور اسرائیل کی نگرانی میں خود یمن کے خلاف جارحیت کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمارے عزیز عوام کو سعودی عرب کی ظالمانہ جارحیت کے خلاف مقابلے میں بڑی کامیابیاں عطا فرمائی ہیں۔
سعودی عرب یمن کے خلاف جارحیت کے تمام مراحل کا آغاز کرنے والا رہا ہے
انصاراللہ کے سربراہ نے کہا کہ کشیدگی میں کمی کے مرحلے کے دوران سعودی عرب نے سنجیدگی سے امن کی جانب پیش قدمی نہیں کی، بلکہ اس موقع سے اپنے اقدامات میں شدت لانے اور تکفیری جنگجوؤں پر مشتمل فوجی دستے تشکیل دینے کے لیے فائدہ اٹھایا۔
سربراہ انصار اللہ نے مزید کہا کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز سعودی عرب کی جانب سے صنعا کے ہوائی اڈے پر بمباری سے ہوا اور سعودی عرب ہی جارحیت کے تمام مراحل کا آغاز کرنے والا رہا ہے۔
سید عبد المالک بدر الدین نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران یمن کی مسلح افواج اور دوسرے فریق کی افواج کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ اخلاقی اور دینی اصولوں کی پابندی کس نے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اپنی جارحیت کے دوران یمن میں ہر چیز کو نشانہ بنایا اور کسی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا۔
آپ کا تبصرہ